لال لئو
 

بھٹ شاہ سے سے جنوب مغرب میں موجود نیشنل ہائی وے سے کھنڈو جانے والے راستے کے شمال کی جانب ایک کلومیٹر کے فاصلے پر سانگرو دریا بہتا ہے۔ حضرت سد شاہ عبدالطف بھٹائی رحمتہ اللہ علہڈ نے اس کے کنارے ایک چبوترہ تعمیر کروایا تھا جہاں ایک لال جھاؤ ( اس درخت کو سندھی میں 'لئی' اور انگریزی میں Tamarix aphylla کہتے ہیں) بھی موجود ہے ،اس کے بعد یہ جگہ 'لال لئی' کے نام سے مشہور ہوگئی۔ خشک ہوجانے کے باوجود بھی یہ درخت آج بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔ اس چبوترے کی خصوصیت یہ ہے کہ دریا کے کنارے پر ہونے کے باعث گرم ہوا کے جھونکے بھی دریا کے پانی سے گزر کر ٹھنڈے ہوجاتے تھے اور اس کہ ساتھ یہاں پر گھنی چھاؤں بھی تھی۔ حضرت سدر شاہ عبدالطف بھٹائی رحمتہ اللہ علہھ کو یہ جگہ بہت پسند تھی اور آپ خاص طور پر گرمیوں کی موسم میں اس جگہ پر اپنے فقیروں کے ساتھ ذکر و فکر کی محفلیں سجایا کرتے تھے۔